قرآنِ مجید کی حقانیت کو واضح کرتے ہوئے سورہ الشعراء میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ یہ کلام، رب العالمین کا اتارا ہوا ہے جسے روح الامین (جبرئیل) نے پیغمبر کے قلب پر القا کیا ہے تاکہ آپ خدائی انذار (divine warning) کا فریضہ انجام دیں۔ نزولِ قرآن کے وقت مخالفین کی جانب سے یہ بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا کہ یہ کوئی انسانی کلام ہے یا سابقہ کتب کا کوئی تحریف شدہ روپ۔ اس کے برعکس معروضی حقیقت (objective reality) یہ ہے کہ قرآن خالص وحیِ الٰہی (divine revelation) ہے جو کامل ترین حفاظتی انتظام کے تحت نازل کیا گیا۔ روایات کے مطابق بعثتِ نبوی کے وقت عالمِ بالا میں غیر معمولی حفاظتی الرٹ نافذ کر دیا گیا اور شیاطین و جنات کی اس آزادانہ نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں جس کے تحت وہ فرشتوں کی گفتگو سن کر زمین تک پہنچایا کرتے تھے۔ اس غیبی پہرے کے لگتے ہی جب شیاطین کے وفود حقیقتِ حال جاننے کے لیے زمین کے اطراف میں پھیلے تو حجاز کے رخ پر آنے والے گروہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاوت کرتے سن کر پکار اٹھا کہ یہی وہ عظیم واقعہ ہے جس کے باعث آسمانوں پر ہماری رسائی روک دی گئی ہے۔ غرض یہ کہ تنزیلِ قرآن کا پورا عمل ہر قسم کی شیطانی مداخلت، ملاوٹ اور تغیر و تبدل (alteration) سے مکمل طور پر پاک اور محفوظ تھا۔
اس کلامِ الٰہی کی حفاظت کا مطالعہ کیا جائے تو اس کے دو واضح مراحل (two phases) سامنے آتے ہیں۔ پہلا مرحلہ آسمان سے قلبِ رسول تک اس کی من و عن ترسیل کا تھا، جو جبرئیلِ امین کی امانت داری کے تحت ہر نوع کے تصرف سے پاک رہا۔ دوسرا مرحلہ زمین پر اس متن کی دائمی حفاظت اور اس کے اصل متن کی بقا (textual restoration) کا تھا۔ اس غرض کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر معمولی اہتمام فرمایا؛ آیات کو فوری طور پر ضبطِ تحریر میں لایا گیا، صحابہ کو حفظ کرایا گیا، اور حیاتِ طیبہ کے آخری رمضان میں جبرئیل کے ساتھ دو مرتبہ قرآن کا دورہ فرما کر اس کی حتمی توثیق کی گئی۔ بعد ازاں اصحابِ رسول نے اسی دستاویزی سرمایے کو مدون کر کے دنیا کے مختلف خطوں تک پھیلایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے پاس موجود مصحف بالکل اسی خالص اور مستند صورت میں محفوظ ہے جس پر وہ نازل ہوا تھا۔ ایک سچے طالبِ ہدایت (seeker of truth) کے لیے یہ کتاب مکمل فکری و روحانی اطمینان (spiritual satisfaction) کا ذریعہ ہے، جس کی حفاظت پر بلا خوفِ تردد مکمل اعتماد کیا جا سکتا ہے۔
جدید سائنسی فکر کے ایک معروف مفکر نے کائنات کے تناظر میں یہ گہری بات کہی تھی کہ کائنات کے بارے میں سب سے زیادہ ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ وہ انسان کے لیے قابلِ فہم (comprehensible) ہے۔ بعینہٖ یہی معاملہ قرآنِ مجید کا ہے۔ قرآن کا سب سے بڑا فکری اعجاز یہ ہے کہ اس کی تعلیمات انسانی فہم کے لیے پوری طرح کھل جانے والی اور فطرت کے قوانین سے مکمل ہم آہنگ ہیں۔ انسان چاہے جس زاویے سے بھی صداقت کی تلاش کرے—خواہ وہ سائنسی دریافتیں (scientific discoveries) ہوں، تاریخی شواہد ہوں، قدیم صحائف کا تقابلی مطالعہ ہو یا انسانی نفسیات کی عمیق تہیں—قرآن ہر سطح پر انسانی سوالات کا مدلل اور تشفی بخش جواب بن کر سامنے آتا ہے۔ اس کی تعلیمات میں کوئی ایسا ابہام نہیں جو حقیقت کے ادراک میں رکاوٹ بنے، بلکہ وہ کائنات کے خارجی حقائق (objective facts) اور انسانی ضمیر کے ساتھ حیرت انگیز مطابقت رکھتی ہیں۔
قرآن نے تاریخی پس منظر میں یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ کیا منکرین کے لیے یہ بات کافی نشانی نہیں کہ بنی اسرائیل کے اہلِ علم اس کی حقیقت سے باخبر تھے۔ معاصر دور کے تناظر میں یہ استدلال تمام سنجیدہ مفکرین، محققین اور اہلِ دانش پر پوری طرح منطبق ہوتا ہے۔ نزولِ قرآن کا غیر معمولی غیبی اہتمام، تاریخ کے اندر اس کے متن کی بے مثل حفاظت، اور پھر جدید سائنسی و کائناتی معلومات کی جانب سے اس کے بیانات کی تائید و توثیق (affirmation)—یہ سب ایسے کھلے شواہد ہیں جو کسی بھی منصف مزاج انسان کے لیے اتمامِ حجت کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان تمام ہمہ گیر اور محکم دلائل کے بعد بھی اگر کوئی شخص ایمان و تسلیم کی راہ اختیار نہ کرے تو یہ محض اس کے اپنے تعصب اور اعراض کی دلیل ہے۔ کائنات، تاریخ اور انسانی عقل کی اس قدر واضح گواہیوں کے بعد اب اور کون سی بات باقی رہ جاتی ہے جس پر انسان ایمان لائے گا۔
(a) Though the Quran has been revealed in a language of human beings, its literary superiority is extraordinary, so much so that its language itself provides proof of the Quran being a superior Divine discourse of God. Another proof of the Truth of the Quran is that, the prophets, born long before the revelation of the Quran,had predicted it. This prediction is found even today in the Torah, Zabur (Book of Psalms) and Injeel (Bible). It was on the basis of these predictions that a number of the Christian and Jewish scholars of those days (for example ‘Abdullah ibn Salam) embraced the faith. This trend continues even today. The revelation of the Divine discourse of God with such special arrangements, could be only for a certain special purpose and this purpose is to warn the people of the coming Day of Judgement: Just as warning about the Hereafter was the special purpose of all the previous revealed Books, so is it the special purpose of the Quran.